Monday, 27 November 2023

نشے کا انجکشن کیا ہے What is drug injection?

 نشے کا انجکشن کیا ہے

تو یہ ہیں ہمارے شہر کے کچھ "نشئی" حضرات جو مئیر ہاوس کے بلکل سامنے بیٹھ کر ٹیکے لگا رہے ہیں۔ یہ لوگ دن بھر کوڑے دانوں اور خالی پلاٹوں سے گتے، پلاسٹک اور دھات کی چیزیں اکٹھی کرتے ہیں، کبھی کبھی کہیں چھوٹی موٹی چوری بھی کرلیتے ہیں اور پھر رات کو اس محنت کی کمائی سے لیا ہوا نشہ ایک ہی ٹیکے کے ذریعے دس بارہ لوگ اپنے خون میں گھول لیتے ہیں۔ ایسے لوگ مختلف شہروں کے پارکس، فٹ پاتھ اور پل کے نیچے مل جائیں گے۔

یہ کہانی شروع ہوتی ہے "Opiates" سے،  یہ کیمکلز کا ایک پورہ گروپ ہے جو "پوست" / افیون کے پودے سے نکلتے ہیں، یا ان نکلنے والی چیزوں سے بنائے جاتے ہیں۔ جیسے افیون، ہیروئن وغیرہ۔ یہ کیمکلز اپنی دو خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ درد کو بڑے اچھے سے روکتے ہیں، خاص کر شدید درد کو، اور دوسری وجہ یہ کہ ان کو لینے سے مزے، لذت، سکون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے لوگ اسے لینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کی لت لگ جاتی ہے جس کے چھوڑنے سے ذہنی طور پر نقصان کے ساتھ ساتھ جسمانی نقصان بھی ہوتا ہے اور اگر کوئی اسے لیتا رہے تو پھر تو دن با دن ایک تکلیف دہ زندگی سے ہوتا ہوا ایک گندی موت تک پہنچ جاتا ہے، گویا کہ یہ دو دھاری تلوار ہے۔

اصل میں opiates کی یہ دونوں خصوصیات (درد کو روکنے اور لذت دینے کی کیفیت) ان کے ایک ہی کام کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور وہ کام ہے نیورونز کے کام کو روکنا۔ 

نیورونز وہ خلیے ہیں جن سے ہمارے دماغ سمیت نروس سسٹم بنا ہے، اب فرض کریں کہ اپکو جسم کے کسی حصے پر چوٹ لگی ہے تو وہاں موجود نیورونز دماغ کو سگنل بھیجیں گے اور دماغ میں موجود نیورونز اس حصے میں درد کی کیفیت آپ کو محسوس کروائیں گے۔ یہ opiates نیورونز کے درد کے سگنل بھیجنے کو کم کرتے ہیں۔ ان نیورونز پر کچھ خاص ریسپٹرز ہوتے ہیں، جن پر opiates جڑتے ہیں تو نیورونز کے سگنل کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے جس سے درد کی کیفیت کم ہوجاتی ہے۔ سو مختصر طور پر یہ نیورونز کو آف کر دیتے ہیں۔


اس بات کو سمجھ کر یہیں چھوڑ دیں اور دوسری بات کی طرف آئیں۔ ہمارے دماغ میں خاص نیورونز ہوتے ہیں جو خاص کیمکلز خارج کرتے ہیں، جن سے ہمیں خوشی، سکون اور لذت کی کیفیت ملتی ہے۔ انہی کیمکلز میں ایک بہت اہم کیمکل ڈوپامین بھی ہے۔ 


جب ہم کوئی مزے والا کام کرتے ہیں جیسے کوئی ذائقہ دار کھانا کھالینا، جنسی عمل کرنا، کچھ جیت لینا یا کسی اور طرح سے خوشی کا ملنا، تو ہمارے دماغ میں موجود ان مخصوص نیورونز سے ڈوپامین خارج ہوتا ہے، جو کہ دماغ کے مخصوص حصوں پر اثر کرتا ہے اور ہمیں خوشی اور لذت ملتی ہے۔


لیکن اس ڈوپامین کو بھی تو ضرورت کے وقت ہی خارج ہوکر اپنا کام کرنا چاہیے، ایسا تو نہیں ہونا چاہیے کہ ہر وقت ہی ڈوپامین خارج ہوتا رہے۔ اس لیے کچھ خاص نیورونز ہوتے ہیں جو اس ڈوپامین کے خروج کو روکے رکھتے ہیں۔


اب یاد کریں کہ اوپر ہم نے بات کی تھی کہ Opiates کے پاس نیورونز کے خاص ریپسٹرز سے جڑ کر ان کے کام کو روک دینے کی صلاحیت ہوتی ہے، تو opiates ان  ڈوپامین کو روکنے والے نیورونز کے ساتھ جڑ کر بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں، یعنی Opiates انہی نیورونز کو روک دیتے ہیں یعنی انہیں بھی آف کر دیتے ہیں جنہوں نے ڈوپامین کے خروج کو روکنا تھا۔


جس سے ڈوپامین کا خروج بڑھ جائے گا، اور انسان بیٹھا بیٹھا ہی خوشی اور سکون کی دنیا میں چلا جائے گا۔ 


لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ، ان Opiates کے لینے سے ان نیورونز کے ان ریسپٹرز کی حساسیت اور تعداد کم ہوجاتی ہے جس سے اکر Opiates نے جڑنا ہوتا ہے، اس لیے لذت کے اس عروج پر پہنچنے کے لیے Opiates کی مقدار بڑھانا پڑتی ہے۔ 


لیکن ڈوپامین کے اس نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ جسم کے باقی نظام کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں جسے خون اور دل، ہارمونز کا نظام، امیون سسٹم، سانس لینے کا نظام وغیرہ، ان میں سے کوئی بھی اگے جاکر اس انسان کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔


ان opiates کا اثر صرف اس سسٹم تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ دماغ کے کچھ اور کیمکلز اور ہارمونز کا خروج میں روک دیتا ہے، جس سے جسم کی بہت سے اہم افعال متاثر ہوتے ہیں اور سست ہوجاتے ہیں جیسا کہ سانس لینا، دل کی دھڑکن، نظام انہضام اور ساتھ ہی انسان کے حواس اور ہوش۔ جس سے انسان بے ہوشی کی سی کیفیت میں ہوتا ہے۔ 


جب جسم یہ محسوس کرتا ہے کہ opiates کی وجہ سے جسم کے دوسرے کیمکلز کا کام کم ہوگیا ہے تو وہ ان کیمکلز کی مقدار اور جسم میں ان کی حساسیت بڑھا دیتا ہے، جس کا مقصد جسم کے نارمل فنکشن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ 


پھر جب opiates کی لت کا عادی شخص کسی وجہ سے یہ نشہ چھوڑتا ہے یا اسے یہ ملتا نہیں تو اس کے جسم میں ان کیمکلز کے خروج پر لگی opiates کی بریک ہٹ جاتی ہے، لیکن جسم ان کیمکلز کو زیادہ زور دار طریقے سے بنا رہا ہوتا ہے اور ساتھ ہی انکی حساسیت بھی بڑھا چکا ہوتا ہے اور یک دم سے opiates نہ لینے کی وجہ سے ان کیمکلز کا لیول اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ جسم کا نظام ایک بار پھر سے الٹ پلٹ ہوتا ہے، درد، الٹی، گھبراہٹ، بخار جیسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے، اور یہ ہوتے ہیں withdrawal symptoms یعنی نشئی کی وہ حالت جب اسے نشہ نہ مل رہا ہو۔ 


اب فرض کریں کہ اس نشئی نے کسی طرح سے نشے کے بغیر گزارہ کیا اور اس کا جسم نشے کے بغیر رہنے کا عادی ہو ہی رہا تھا کہ پھر سے اس کو کہیں سے نشہ ملا اور اس نے اتنی مقدار لی جتنی وہ نشہ چھوڑنے سے پہلے آخری بار لیتا تھا، لیکن اب اس کا جسم نشے کے حوالے سے اتنا resistant نہیں رہا تھا، اور اس طرح اوور ڈوز اسکی موت کی وجہ بن سکتا ہے۔ 


اسکے علاؤہ پاکستان کے یہ نشئی ایک ہی سرنج کو مختلف لوگوں پر استعمال کرتے ہیں جس سے ایچ آئی وی انفیکشن بڑی تعداد میں بڑھتا ہے اور اگر کسی کے بیوی بچے ہیں تو ان تک بھی منتقل ہوتا ہے۔


تو کیا کوئی نشے کی لت سے باہر نہیں آسکتا ؟ جی ہاں بلکل آسکتا ہے، لیکن اس کے لیے ایک پراپر ٹریٹمنٹ چاہیے جس میں ادویات کے ساتھ ساتھ سائیکو تھراپی کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ لیکن یہ تصویر والے لوگ اس سے کوسوں دور ہیں۔ انہیں ان کا نشہ آس پاس سے ہی سستے میں مل جاتا ہے۔ ملک میں افغانستان سے سمگل ہونے والے opiates کے ساتھ ساتھ لوگ خود بھی نشہ اور چیزیں بنا رہے ہیں اور کچھ میڈکل سٹور بھی یہ ادویات بیچتے ہیں۔


ایک اہم بات opioids اور opiates کا فرق بھی ہے۔ opioids سے مراد وہ کیمکلز جو درد کم کرنے کے ساتھ ساتھ نشہ اور اور لت لگانے والے ہوں، اور اس گروپ کے وہ کیمکلز جو کہ "پوست/ افیون کے پودے سے بنتے ہیں انہیں opiates کہا جاتا ہے۔ یعنی opiates اصل میں opioids کی ایک قسم ہے جبکہ باقی opiods لیب میں انسانوں کی طرف سے بنائے گئے ہیں جن میں کچھ ادویات بھی شامل ہیں، opiates کے علاؤہ باقی opiods کو نشے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔


لیکن یہ کہانی صرف ان لوگوں تک اور ان opiods تک محدود نہیں، ہماری نئی نسل جو اچھے گھروں سے ہے، جو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہے، ان تک، ان opiods کے علاؤہ اور قسم کے نشے بھی پہنچ چکے ہیں، یعنی معاملہ اب اور بگڑنے کا خدشہ ہے۔۔۔

What is drug injection?

So here are some "addicted" gentlemen of our city who are sitting right in front of the mayor's house and injecting. These people collect cardboard, plastic and metal items from garbage cans and empty plots throughout the day, sometimes they even commit small thefts and then at night, ten or twelve people are drugged by the earnings of this hard work. Get dissolved in your blood. Such people will be found in parks, sidewalks and under bridges of various cities.


The story begins with "Opiates", a whole group of chemicals that come from, or are made from, the "poop"/opium plant. Like opium, heroin etc. These chemicals are known for their two properties.


One feature is that they prevent pain very well, especially severe pain, and the second reason is that taking them creates a state of pleasure, pleasure, relaxation, because of this feature, people take it. One starts and then one becomes addicted to it which leads to mental damage as well as physical damage if one continues to take it then from a painful life day by day to a dirty death. reaches, as if it is a double-edged sword.


In fact, both of these properties of opiates (pain-blocking and euphoria) are due to their same action. And that job is to stop the neurons from working.


Neurons are the cells that make up the nervous system including our brain, now suppose you have an injury on a part of the body, then the neurons there will send signals to the brain and the neurons in the brain will make you feel the pain in that part. Will do. These opiates reduce the pain signals neurons send. There are certain receptors on these neurons, on which opiates bind, the signal capacity of the neurons decreases, which reduces pain. So in short it turns off the neurons.


After understanding this point, leave it here and come to another point. There are special neurons in our brain that release special chemicals, which give us a state of happiness, relaxation and pleasure. Among these chemicals is a very important chemical called dopamine.


When we do something pleasurable, such as eating a tasty meal, having sex, winning something, or otherwise experiencing pleasure, certain neurons in our brain release dopamine, which is a special chemical in the brain. Affects the parts and gives us happiness and pleasure.


But this dopamine should also be released when needed and do its job, it should not be that dopamine is released all the time. So there are certain neurons that block the release of this dopamine.


Now recall that above we discussed that opiates have the ability to inhibit the activity of neurons by binding to specific receptors, so opiates do the same thing by binding to these dopamine inhibitory neurons. , that is, opiates block the same neurons that are supposed to block the release of dopamine.

Which will increase the release of dopamine, and the person will go to the world of happiness and peace while sitting.


But over time, taking these opiates decreases the sensitivity and number of receptors in the neurons that the opiates bind to, so the amount of opiates must be increased to reach that peak of pleasure.


But in addition to affecting the dopamine system, they also severely affect the rest of the body's systems, which include blood and heart, hormonal system, immune system, respiratory system, etc. May cause death.


The effect of these opiates is not limited to this system, but it blocks the release of some other chemicals and hormones in the brain, which affects and slows down many important body functions such as breathing, heart rate, etc. The pulse, the digestive system as well as the human senses and consciousness. By which a person is in a state of unconsciousness.


When the body senses that opiates have reduced the function of other body chemicals, it increases the amount and sensitivity of these chemicals in the body, with the goal of maintaining normal body function.


Then when a person addicted to opiates for some reason quits the drug or does not get it, the opiates brake on the release of these chemicals in the body is removed, but the body continues to make these chemicals more vigorously. And at the same time, their sensitivity is also increased, and due to not taking opiates at once, the level of these chemicals increases to such an extent that the body system is once again reversed, pain, vomiting, panic. , fever-like conditions are encountered, and these are the withdrawal symptoms of the addict when he is not getting the drug.


Now suppose that the addict somehow managed to live without the drug and his body was getting used to being free of the drug, that he again got the drug from somewhere and took the same amount as before he quit the drug. Last time he used to take it, but now his body is not so resistant to addiction, and thus overdose can be the cause of his death.


In addition, these addicts in Pakistan use the same syringe on different people, which increases HIV infection in large numbers and if one has a wife and children, it is also transmitted to them.


So no one can come out of drug addiction? Yes it can, but it needs a proper treatment which requires medication as well as psychotherapy. But people with this picture from him Curses are far away. They get their drugs cheaply from nearby. Along with opiates smuggled into the country from Afghanistan, people are also making their own drugs and some medical stores sell these drugs.


An important point is the difference between opioids and opiates. Opioids refer to chemicals that are pain-relieving as well as narcotic and addictive, and the chemicals in this group that are made from the "pot/opium plant" are called opiates. While the rest of the opiods have been created by humans in the lab, including some drugs, the rest of the opiods besides opiates are also used for addiction.

But this story is not limited only to these people and to these opiods, our new generation who are from good homes, who are studying in universities and colleges, to them, in addition to these opiods and other types of addiction, that is the matter. Now there is a fear of getting worse.

Marketing whatsApp No

 

Marketing whatsApp No

Pharma Job In Pakistan

Medicin Group 

Pharma Marketing

Nutra + Pharma


Friday, 24 November 2023

VIAGRA ویاگرہ کیا ہے

 

VIAGRA 

ویاگرہ کیا ہے 

آپ نے کیا سوچا اور کیا ہوا؟

1989 میں "Pfizer" کمپنی نے ایک دوا پر تجربہ کیا۔ منصوبے کے مطابق، دوا سے بلڈ پریشر کو کم کرنا تھا۔ ایسا کرنے کے لئے، منشیات کو شریانوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کرنا تھا، اس طرح بلڈ پریشر کو کم کرنا تھا. اس کے علاوہ یہ دوا انجائنا کے لیے بھی تیار کی گئی تھی، کیونکہ انجائنا میں دل کے پٹھوں کو خون پہنچانے والی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے پٹھوں میں درد ہوتا ہے اور مریض کو سینے میں درد اور دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ . اور دوا ان خون کی نالیوں کے حجم/پھیلاؤ کو بڑھا کر خون کے بہاؤ کو بہتر بنا سکتی ہے۔

اسی طرح، اس دوا سے پلمونری آرٹری ہائی بلڈ پریشر اور دل سے پھیپھڑوں کی طرف جانے والی خون کی نالیوں میں رکاوٹ کے لیے امید تھی۔


اور اس کے باوجود، منشیات نے یہ سب کچھ ایک خاص حد تک کیا، لیکن جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا، نہیں ہوا۔


لیکن اس دوا کا ایک بہت ہی دلچسپ سائیڈ ایفیکٹ دیکھنے میں آیا جو یہ تھا کہ اس دوا کے استعمال سے مردوں کے عضو تناسل میں تناؤ پیدا ہوتا ہے جو کافی دیر تک رہتا ہے۔ اپنے اثر کی وجہ سے یہ دوا ویاگرا کے نام سے مشہور ہے اور دنیا بھر میں اس کا اربوں ڈالر کا کاروبار ہے۔

نائٹرک آکسائیڈ دراصل ایک کیمیکل ہے جو خون کی نالیوں میں پیدا ہوتا ہے اور اعصاب سے بھی آتا ہے۔ ہے لہذا، PDE-5 نامی ایک انزائم نائٹرک آکسائیڈ کے عمل کو روکنے کے لیے خون کی نالیوں کے پٹھوں میں موجود ہوتا ہے۔


ویاگرا میں Sildenafil نامی کیمیکل ہوتا ہے، جو PDE-5 انزائم کو کام کرنے سے روکتا ہے۔ اس سے نائٹرک آکسائیڈ کا کام جاری رہتا ہے اور نتیجتاً خون کی شریانیں پھیل جاتی ہیں یعنی ان کا حجم بڑھ جاتا ہے۔


عضو تناسل کی خون کی نالیوں کے ساتھ ساتھ عضو تناسل میں پھیلنے والی خصوصیات ہوتی ہیں اور ان کے پھیلاؤ کو نائٹرک آکسائیڈ اور PDE-5 کے اس نظام سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔


جب جنسی خواہش پیدا ہوتی ہے تو اعصاب اور خون کے دھارے سے نائٹرک آکسائیڈ عضو تناسل کی خون کی نالیوں اور بافتوں کو پھیلا کر انہیں خون سے بھر دیتی ہے جس سے عضو تناسل میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ہوا یا پانی سے غبارے کو بھرنے سے غبارے میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔


جب جنسی خواہش ختم ہو جاتی ہے تو PDE-5 انزائم نائٹرک آکسائیڈ کے عمل کو روکنے کا کام کرتا ہے اور وریدوں اور بافتوں میں بھرا ہوا خون بھی واپس چلا جاتا ہے اور اس طرح تناؤ سے نجات ملتی ہے۔


لیکن ویاگرا اور دیگر Sildenafil انزائم PDE-5 کو کام کرنے سے روکتے ہیں، جس سے تناؤ زیادہ دیر تک رہتا ہے۔


یہ بھی واضح رہے کہ ویاگرا خود سے کوئی جنسی خواہش پیدا نہیں کرتی، یہ محض عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرتی ہے یا جنسی خواہش کے دوران عضو تناسل میں تناؤ کو طول دیتی ہے۔


ویسے، Sildenafil اب بھی پلمونری ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن ان کی خوراک ویاگرا سے مختلف ہے۔


اچھی بات یہ ہے کہ ویاگرا کا ٹارگٹ PDE-5 انزائم جسم میں بہت سی دوسری جگہوں پر نہیں پایا جاتا، اس لیے ویاگرا نے ان مقاصد میں کوئی خاص نتائج نہیں دکھائے جن کے لیے اسے بنایا گیا تھا، اور اسی لیے آج ویاگرا پورے جسم میں vasodilation کا باعث بنتی ہے۔ یہ دباؤ کو کم نہیں کرتا ہے۔


ویسے، ہمارے پاس بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے مختلف قسم کی دوائیں ہیں۔


ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں عام لوگوں میں جنسی تعلیم اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ ان ادویات کو استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

What did you think and what happened?

In 1989, the "Pfizer" company experimented with a drug. According to the plan, the drug was supposed to lower blood pressure. To do this, the drug was supposed to increase the dilation of the arteries, thereby lowering blood pressure. Also, this drug was developed for angina, because in angina, there is a blockage in the vessels that supply blood to the heart muscle, causing the muscles to ache and the patient to feel pain and pressure in the chest. . And the drug could improve blood flow by increasing the volume/dilation of these blood vessels.

Similarly, there was hope with this drug for pulmonary artery hypertension and obstruction of the blood vessels leading from the heart to the lungs.

And even so, the drug did all that to a certain extent, but not as well as it was supposed to.

But a very interesting side effect of this drug was observed, which was that taking this drug caused tension in men's penis which lasted for a long time. Due to its effect, this drug is popularly known as Viagra and is a multi-billion dollar business worldwide.

Nitric oxide is actually a chemical that is produced in the blood vessels and also comes from the nerves. Is. Therefore, an enzyme called PDE-5 is present in the muscle of the blood vessels to inhibit the action of nitric oxide.

Viagra contains a chemical called Sildenafil, which blocks the PDE-5 enzyme from working. This keeps the work of nitric oxide going and as a result dilates the blood vessels i.e. their volume increases.

Penile blood vessels as well as penile tissues have proliferative properties and their proliferation is controlled by this system of nitric oxide and PDE-5.

When sexual desire is aroused, nitric oxide from the nerves and bloodstream dilates the blood vessels and tissues of the penis, filling them with blood, which causes tension in the penis. Something like filling a balloon with air or water causes tension in the balloon.

When the sexual desire ends, the PDE-5 enzyme acts to stop the action of nitric oxide and the blood filled in the vessels and tissues also goes back and thus the stress is relieved.

But Viagra and other Sildenafil blocks the enzyme PDE-5 from working, making the stress last longer.

It should also be clear that Viagra does not induce any sexual desire by itself, it merely creates tension in the penis or prolongs the tension in the penis during sexual desire.

Well, Sildenafil is still used for diseases like pulmonary hypertension, but their dosage is different from Viagra.

The good thing is that Viagra's target PDE-5 enzyme is not found in many other places in the body, so Viagra did not show any special results in the purposes for which it was designed, and therefore today Viagra causes vasodilation throughout the body. It does not lower the pressure.

Well, we have different types of medicines to lower blood pressure.


One important thing is that in a country like Pakistan, there are many misconceptions about sex education and the use of drugs among the general public, so it is better to consult a doctor before using these drugs.




What is Augmentin and how does it work?


Augmentin 

کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے

تو یہ ہے ہمارے ہاں استعمال ہونے والی ایک عام اینٹی بائیوٹک "اگمینٹن" (augmentin) جو میری نظر میں میڈیکل سائنس کا ایک خوبصورت "کمبینیشن" ہے۔ 


اگمینٹن کی گولی میں (اموکس سیسلین) نام کی اینٹی بائیوٹک ہوتی ہے، اور سب اینٹی بائیوٹکس کی طرح یہ بھی بیکٹیریال انفیکشن کو ختم کرتی ہے۔ (اموکس سیسلین) کا تعلق اینٹی بائیوٹکس کے سب سے بڑے گروپ  (بیٹا لیکٹم انٹی باٸیوٹکس) سے ہے۔ یہ ساری اینٹی بائیوٹکس بیکٹریا کی سیل وال پر حملہ کرکے بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں۔ 

لیکن بیکٹیریا بھی بڑا چالاک ہے، اس نے اتنی ساری اینٹی بائیوٹکس کا ایک ہی علاج نکالا۔ کچھ بیکٹیریا ایسا انزائم (بیٹا لیکٹا میز) بنانے لگ گئے جو ان اینٹی بائیوٹکس کو ناکارہ کر دیتا ہے۔ یعنی جو اینٹی بائیوٹک بیکٹیریا کو "توڑنے" آئیں، بیکٹیریا نے انہیں ہی "توڑ" دیا۔

یہاں پر آتا ہے ہمارا "کمبینیشن"۔ ہم نے بیکٹیریا کے اس انزائم کو پکڑا اور کچھ ایسے کیمکلز لے کر آئے جو اس انزائم کو ناکارہ کردے۔ ایسا ہی ایک کیمکل کلاولانک ایسڈ ہے۔ جو بیکٹیریا کے اینٹی بائیوٹک ناکارہ کرنے والے انزئم کو ہی ناکارہ کر دیتا ہے۔

تو ہم نے اپنی اموکسی سیسلین کو اس کلاولانک ایسڈ  کے ساتھ ملا دیا اور یوں بن گئی ہماری اگمینٹن !!!

یعنی پہلے ہم نے بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹک بنائی، تو بیکٹیریا نے اس کے جواب میں انزائم بنا لیا تو ہم نے اس کا بندوبست بھی کرلیا۔ اسی طرح ہمارے پاس مختلف اینٹی بائیوٹکس اور کیمکلز کی جوڑیاں اور دو مختلف اینٹی بائیوٹکس کے کمبینیشن موجود ہین

 لیکن کیا اس طرح ہم بیکٹیریا سے جیت گئے ؟ وقتی طور پر تو ہاں لیکن لگتا ہے بیکٹیریا پھر سے بازی بدل دے گا، بلکہ ایسے بیکٹیریا بھی موجود ہیں جو تقریباً سب اینٹی بائیوٹکس کو فیل کر چکے ہیں۔ 

یہ انٹٹی باٶٹک ریزسٹس کی جنگ ہے، جس میں بیکٹیریا ایک عرصے کے بعد ایک اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتا ہے۔ ویسے تو یہ کام "ارتقائی اصولوں" کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن ہم انسانوں کی طرف سے اینٹی بائیوٹکس کا بلا ضرورت اور غلط استعمال اس عمل کو شدید کر دیتا ہے، جس میں ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا نقصان ہے، کیونکہ آج جو بیکٹیریا آسانی سے ختم ہو رہا ہے کل کو وہی بیکٹیریا مشکل پیدا کر سکتا ہے۔

ہمارے پاکستان میں سرکاری رپورٹس بتاتی ہیں کہ کس طرح انسان اور جانوروں میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، جو بہت خطرناک ہے۔ خود میں بھی اس غلط کام کا نشانہ بن چکا ہوں۔ گیارہ سال کی عمر میں میری ٹانگ کے پٹھوں میں اندرونی چوٹ لگی، اور اب میں جانتا ہوں کہ اس وقت مجھے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میرا علاج کرنے والے "ڈاکٹر صاحب" نے مجھے مہینے کے لیے یہی اگمینٹن لکھ دی۔  افسوس۔۔۔

ہر سال یہ ہفتہ (18 - 24 نومبر) عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اینٹی بائیوٹکس اور antibiotic resistance کی آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے، تو آپ بھی دیکھیں کہ کہیں آپ غیر ضروری اور غلط طریقے سے اینٹی بائیوٹکس تو استعمال نہیں کر رہے۔۔۔!!!

What is Augmentin and how does it work?

So here is a common antibiotic we use "augmentin" which in my view is a beautiful "combination " of medical science.


The Augmentin pill contains an antibiotic called "amoxicillin," and like all antibiotics, it kills bacterial infections. Amoxicillin belongs to the largest group of antibiotics called "beta lactam antibiotics". All these antibiotics kill the bacteria by attacking the cell wall of the bacteria.


But bacteria is also very clever, it has come up with the same treatment of so many antibiotics. Some bacteria begin to produce an enzyme (beta lactamase) that inactivates these antibiotics. That is, the antibiotics that came to "break" the bacteria, the bacteria "broke" them.

Here comes our "combination ". We captured this bacterial enzyme and came up with some chemicals that would inactivate the enzyme. One such chemical is "clavulanic acid". which inactivates the antibiotic-degrading enzyme of the bacteria.


So we combined our amoxicillin with this clavulanic acid and that's how our augmentin was made!!!

That is, first we made an antibiotic to kill the bacteria, then the bacteria made an enzyme in response, so we arranged for it. Similarly, we have combinations of different antibiotics and chemicals and combinations of two different antibiotics.

  But is this how we won from bacteria? Temporarily yes, but bacteria seem to re-emerge, but there are bacteria that have failed almost all antibiotics.


This is the battle of "antibiotic resistance", in which bacteria develop resistance to an antibiotic after a period of time. Well, this works according to "evolutionary principles". But the unnecessary and misuse of antibiotics by us humans exacerbates this process, which is a loss for us and our future generations, because the bacteria that are easily eliminated today, the same bacteria that are difficult to reproduce tomorrow. can do.


Official reports in our Pakistan show how antibiotics are being used indiscriminately in humans and animals, which is very dangerous. I have also become a victim of this wrongdoing. When I was 11 years old I had an internal muscle injury in my leg, and I know now that I didn't need antibiotics at the time, but the "doctor" who treated me prescribed the same Augmentin for the month. Sorry...


Every year this week (November 18 - 24) is observed by the World Health Organization as Antibiotics and Antibiotic Resistance Awareness, so make sure you are not using antibiotics unnecessarily and incorrectly. ..!!!

Flagyl کیا ہے؟

 














Flagyl کیا ہے؟







Flagyl 400 Tablet ایک اینٹی بائیوٹک ہے جو آپ کے جسم کی بیکٹیریا اور پرجیویوں کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت میں مدد کرتی ہے۔ یہ جگر، معدہ، آنتوں، اندام نہانی، دماغ، دل، پھیپھڑوں، ہڈیوں اور جلد کے انفیکشن کے علاج میں استعمال ہوتا ہے

یہ ہم پاکستانیوں کی بڑی پسندیدہ گولی "فلیجل" (flygel) یعنی "metronidazole" ہے۔ کسی میڈیکل سٹور والے یا کسی دور دراز کے گاؤں کے ڈسپنسر سے بھی پیٹ درد کی دوا لیں گے تو اکثر فلیجل اور ساتھ میں کوئی پین کلر دے دے گا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ یہ بہت ساری انفیکشنز کے خلاف کارآمد بھی ہے۔

تو بات شروع ہوتی ہے بیکٹیریا سے۔ جس کی دو اقسام ہوتی ہیں ایک وہ جو اپنی توانائی بنانے کے لیے آکسیجن کو استعمال کرتے ہیں، جنہیں ہم aerobic بیکٹیریا کہتے اور دوسرے وہ جو آکسیجن کے بغیر توانائی بناتے ہیں جنہیں ہم anerobic بیکٹیریا کہتے ہیں۔ دونوں بیکٹیریا کے خلیے میں طرح طرح کے کیمکل ریکشنز ہو رہے ہوتے ہیں جن سے کہ وہ اپنے لیے توانائی بناتے ہیں، لیکن دونوں کا توانائی بنانے کا طریقہ الگ ہوتا ہے۔

AA

بیکٹیریا کے علاؤہ کچھ یک خلوی جاندار (کچھ protists) اور بھی ایسے ہوتے ہیں جو anerobic ہوتے ہیں۔

anerobic اس فلیجل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ان 

 جانداروں میں ہی ایکٹو ہوتی ہے، جبکہ aerobic جانداروں اور خلیوں کو نہیں مارتی۔ تو فلیجل یہ سب کیسے کرتی ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہم کوئی دو تین صفحات سے زیادہ پر ریکشنز لکھ سکتے ہیں، اور ان ریکشنز کو دیکھ کر پھر یہ دیکھیں کہ ایک معمولی سی قیمت پر ملنے والی چھوٹی سی گولی اتنا سب کرتی ہے تو کچھ لوگوں کو حیرت ہوگی، اور مجھے سائنس کی اس شاخ سے مزید محبت ہوگی۔

مختصر بیان کیا جائے تو پہلے فلیجل اپنی ایکٹو حالت میں نہیں ہوتی لیکن جب ہم اسے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں (گولی اور انجیکشن کے ذریعے) تو یہ انفیکشن والی جگہ پر پہنچ جاتی ہے، اور وہاں دونوں اقسام (aerobic اور anerobic) جانداروں کے خلیے کے اندر داخل ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے انسانی خلیوں میں بھی داخل ہو جاتی ہے (وہ بھی aerobic ہوتے ہیں)

 لیکن انروبک جانداروں کے خلیوں میں کچھ ایسے ریکشن ہوتے ہیں 

جن کی وجہ سے فلیجل سے کچھ خطرناک کیمکل بنتے ہیں۔ یہ کیمکلز اس ان اروبک جراثیم کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اسے مار دیتے ہیں۔ 


لیکن ایروبک خلیوں میں یہ ریکشنز نہیں ہوتے اور ان خلیوں کے پاس فلیجل کے بنائے ہوئے خطرناک کیمکل سے بچنے کا سسٹم بھی ہوتا ہے۔ 

ویسے تو  anerobic اور aerobic دونوں اقسام کے بیکٹریا اور جراثیم انفیکشن کی وجہ بن سکتے ہیں، لیکن سینے سے نچلے حصوں پر زیادہ تر anerobic بیکٹیریا اور جراثیم ہی انفیکشن کی وجہ بنتے ہیں۔ جیسے نظام انہضام کے نچلے حصے کی انفیکشنز، تولیدی نظام کی اینفیکشنز، گھٹنے کے جوڑوں کی انفیکشنز وغیرہ۔ اس کے علاؤہ منہ اور دانتوں میں ہونے والی مختلف انفیکشنز میں بھی۔ اور بہت کم کیسز میں دماغ کی اینفیکشنز کے لیے بھی۔

فلیجل کی aerobic اور anerobic کی تمیز سے زیادہ اس کا anerobic بیکٹیریا کو مارنے کا طریقہ دلچسپ ہے۔ اس طریقے کی پیچیدگی کی وجہ سے فلیجل عرصے کے بعد بھی کافی حد تک اپنے مطلوبہ نتائج دکھاتی ہے۔ 

لیکن جس تیزی سے یہ استعمال ہو رہی ہے، لگتا یہی ہے کہ کچھ دیر میں اس کا نشانہ بننے والے بیکٹیریا اس کے خلاف بھی مدافعت پیدا کر لیں گے، اور رپورٹس کے مطابق یہ کام شروع ہو بھی چکا ہے، یعنی ہم ایک خوبصورت طریقہ کار والی اس دوائی کو بھی جلد ہی ناکام ہوتا دیکھنے والے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ہمارا ایسے ہی اینٹی بائیوٹکس کو بغیر احتیاط اور ضرورت کے استعمال کرنا ہے، لہذا اس کام سے بچیں۔۔۔۔

How many stages do drugs go through before they hit the market?

 

مارکیٹ میں آنے سے پہلے دوائيں کتنے مراحل سے گزرتی ہیں

جب پہلی بار کسی بیماری یا کسی جسمانی مسلے کے خلاف کوئی کیمکل اثر دیکھاتا ہے، تو وہاں سے لے کر اس کیمکل کے دوائی کی صورت میں مارکیٹ کے آنے کے لیے اوسطاً دس / پندرہ سال لگتے ہیں۔ 


تو اتنے عرصے میں اس کیمکل کے ساتھ کیا ہو رہا ہوتا ہے؟ یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ مارکیٹ میں آنے سے پہلے ایک دوائی کن مراحل اور کن تجربات سے گزرتی ہے۔ 

تو ہماری کہانی شروع ہوتی ہے جب ایک ریسرچر نے کسی بیماری کے خلاف کام کرنے والا کوئی کیمکل دریافت کر لیا۔ اس نے لیبارٹری میں اس کے مزید تجربات بھی کر کے دیکھ لیے، جس سے حوصلہ افزاء نتائج نظر آئے۔ البتہ اس وقت ہم اسے "میڈیسن" یا "ڈرگ" نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اسے "لیڈ کمپونڈ" کہا جاسکتا ہے۔ جس کو  بہتر بنانے کے لیے ہم اس کی کیمائی ساخت میں کچھ تبدیلی بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنے اس کمپونڈ کو زندہ جانداروں میں ٹیسٹ کریں گے۔

 ہم پہلے اسے جانوروں میں ٹیسٹ کریں گے اور پھر انسانوں میں۔ ان سارے ٹیسٹس کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک یہ دیکھنا کہ یہ کمپونڈ استعمال کے لیے محفوظ ہے اور اگر محفوظ ہے تو کتنی مقدار میں محفوظ ہے۔ جبکہ دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کمپونڈ نے  جسم سے باہر جو فائدہ دکھایا ہے کیا یہ جسم کے اندر وہ کام کرتا ہے یا نہیں۔ ان سارے ٹیسٹس کو مختلف مراحل میں کیا جاتا ہے، اور ہم انہی مراحل کو ترتیب سے دیکھنے والے ہیں


1- پری کلینیکل ٹرائلز

یہاں ہم اپنے کیمکل کو جانوروں کے جسم میں داخل کرکے دیکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جس بیماری کے خلاف یہ کیمکل کام کرتا ہے، وہ جانوروں میں نہیں ہوتی۔ اس لیے مصنوعی طریقوں سے جانوروں میں وہ مسلہ پیدا کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد اس کیمکل کا کام دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کتنی مقدار میں وہ کیمکل جانوروں میں ٹاسک بن جاتا ہے۔ جانوروں کے مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور ان کے اعضاء نکال کر اس کیمکل کے اثرات بھی دیکھے جاتے ہیں۔ 

اگر جانوروں میں ہمیں مثبت نتائج ملیں تو ہم جانوروں سے انسانوں کی طرف آتے ہیں۔ جانوروں میں جتنی مقدار میں اس کیمکل نے اثر دکھایا تھا، اس سے ہم انسانوں میں دی جانے والی مقدار کا تعین کرتے ہیں۔ یعنی جانوروں کی مقدار پر مختلف فارمولے وغیرہ لگا کر ہم انسانوں کے لئے موزوں مقدار کا حساب لگاتے ہیں۔ 

تو اب ہم انسانوں پر تجربات کرنے والے ہیں جنہیں کلینیکل ٹرائلز کہا جاتا ہے، اور ان کلینیکل ٹرائلز کے چار مراحل ہوتے ہیں۔


فیز ون: 


اس مرحلے میں ہم صحت مند انسانوں پر تجربات کرتے ہیں۔ یعنی وہ انسان جن میں وہ بیماری نہیں ہے جس بیماری کے لیے وہ کیمکل کار آمد ہے۔ کیونکہ ابھی ہمارا مقصد صرف انسانی جسم میں اس کیمکل کی سیفٹی چیک کرنا ہے، نہ کہ اس کیمکل کی بیماری کے خلاف کارکردگی۔ ہم کچھ نارمل صحت مند لوگوں کو وہ کیمکل دیتے ہیں اور انکی نگرانی کرتے ہیں، ان کے مختلف ٹیسٹ کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ہمارا کیمکل جسم میں کوئی بہت نقصان دے سائڈ ایفکٹ تو نہیں دیکھا رہا۔


فیز ٹو:

صحت مند لوگوں میں کامیاب تجربات کے بعد ہم ان مریضوں پر تجربات کرتے ہیں جن مریضوں کو وہ بیماری ہوتی ہے جس کے لیے وہ کیمکل کارآمد ہے۔ اس مرحلے میں ہم مختصر تعداد میں مریض لیتے ہیں۔ جو زیادہ تر ایک ہی جگہ یا ایک ہی ہسپتال سے ہوتے ہیں۔ اور یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب پہلی بار ہم انسان کے جسم میں اس کیمکل کی بیماری کے خلاف کارکردگی دیکھتے ہیں۔ 

فیز تھری: 

فیز ٹو میں اگر حوصلہ افزاء نتائج ملیں تو ہم فیز تھری کی طرف جاتے ہیں۔ اس مرحلے میں ہم مریضوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں سینکڑوں ہزاروں مریضوں پر تجربات کئے جاتے ہیں۔ جو مختلف علاقوں اور ہسپتالوں سے ہوتے ہیں۔ یہاں ہم ایک تو دوائی کی کارکردگی کو بڑے لیول پر دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی اس کے ممکنہ سائد ایفکٹس کو بھی دیکھتے ہیں۔ 

ان سب مرحلوں کے بعد اگر ہمارا کیمکل مطلوبہ نتائج دیتا ہے تو ہم گورنمنٹ اتھارٹی کو اپنی ریسرچ اور رزلٹ دیکھاتے ہیں۔ اور پھر اگر وہ گورنمنٹ اتھارٹی اس ریسرچ سے راضی ہوتی ہے تو ہماری دوائی مارکیٹ میں آجاتی ہے۔ 


فیز فور: 


کیمل کے دوائی بن کر مارکیٹ میں آنے کے بعد بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑا جاتا۔ اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ عام عوام میں وہ دوائی کسی سائد ایفکٹ کا باعث تو نہیں بن رہی۔ اپنے تجربات میں ہم چاہے ہزاروں لوگ لے لیں، لیکن جب اس دوائی کو عام عوام استعمال کرے گی تب وہ واقعی ایک بہت بڑی تعداد میں استعمال ہو رہی ہوگی، ایسے میں یہ ممکن ہے کہ اس دوائی کا کوئی بہت ہی نایاب سائد ایفکٹ نکل آئے۔ عام طور پر اس سائد ایفکٹ کو بہت ہی کم سمجھا جاتا ہے جو تقریبا ہر 20 ہزار میں سے 1 انسان میں نظر آئے۔


تو ایسے سائڈ ایفکٹ دوائی کے مارکیٹ میں جانے کے بعد ہی نطر آتے ہیں، اور اگر تب کوئی بہت خطرناک سائد ایفکٹ سامنے آیا تو دوائی کو مارکیٹ سے واپس لے لیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک دوائی "Rofecoxib" تھی جو درد وغیرہ کے لئے استعمال ہوتی تھی۔

فیز زیرو: 

یہ کوئی ضروری فیز نہیں ہے، لیکن فارماسیوٹیکل کمپنیاں اسے فیز ون سے پہلے کرتی ہیں، اس فیز میں تھوڑی سی مقدار میں کیمل لیا جاتا ہے اور اسے ریوڈ ایکٹیو بنایا جاتا ہے، پھر انسانی جسم میں اسکی حرکت دیکھی جاتی ہے۔ اس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ جسم میں کہاں کہاں جا رہا ہے۔ اس طرح بہت سے سائڈ ایفکٹس نظر آجاتے ہیں۔ اور اس کے مطابق مزید ریسرچ کو وہیں روک دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس ساری ریسرچ پر کئی ملین ڈالر لگتے ہیں۔

خاص کمپیوٹر سافٹ ویئرز کی مدد سے بھی ہم کسی کیمکل کے کام کرنے کے حوالے سے ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، اس تکنیک کو "in silico" کہتے ہیں۔ 

تو یہ کسی دوائی سے مارکیٹ میں آنے سے پہلے کی ریسرچ ہے۔ اس سے سارے کام کا ایک قانونی پہلو بھی ہے جیسا کہ 

1- جو تجربات جانوروں پر کئے جاتے ہیں، ان میں بھی کھلی آزادی نہیں ہوتی۔ ڈیولپڈ ممالک میں تو جانوروں پر تجربات کرنے سے پہلے بھی متعلقہ اتھارٹیوں سے اجازت لینی پڑتی ہے، اور تجربات کے لیے کچھ قوانین بھی ہیں۔

2- ہر ملک میں ادویات کو کنٹرول کرنے کا ایک سرکاری ادارہ ہوتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ہے، اور امریکہ کی FDA ہے۔

3- جب کسی دوائی کے پری کلینیکل اور کلینیکل ٹرائلز مکمل ہوجاتے ہیں، تب یہ اتھارٹی اپنے متعلقہ ملک میں اس دوائی کو مارکیٹ میں لانے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کے علاؤہ کلینکل ٹرائلز شروع کرنے سے پہلے بھی اجازت لینی ہوتی ہے۔ 

4- پوری دنیا میں امریکہ کی FDA کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ زیادہ تر ممالک میں FDA سے منظور شدہ ادویات کو انکی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے خاص "اثتسناء" حاصل ہوتا ہے، یعنی انکی اتنی سخت ٹیسٹنگ نہیں کی جاتی۔ 

5- ایسا نہیں ہوتا کہ ہمیشہ کوئی نیا کیمکل ہی ہماری ریسرچ کا حصہ ہوگا۔ کبھی کبھی کوئی پہلے سے موجود دوائی میں ہی کچھ تبدیلی کرکے اسے کسی نئی بیماری کے خلاف دیکھا جاتا ہے۔ 

6- ہمارے ملک میں تو زیادہ کلینکل ٹرائلز نہیں ہوتے کیونکہ زیادہ تر ادویات انٹرنیشنل کمپنیوں کی ہیں۔ البتہ امریکہ اور برطانیہ وغیرہ میں کافی کلینکل ٹرائلز ہوتے ہیں اور وہاں بہت سے لوگ کئی کلینکل ٹرائلز میں حصہ بھی لیتے ہیں۔ جن کے بدلے انہیں چند ہزار ڈالر/ پاؤنڈ ملتے ہیں۔ لیکن ساتھ رسک بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ دوائی پہلی بار ٹیسٹ ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک مشہور کیس ایک کینسر کی دوائی "Theralizumab" کے ٹرائلز کے دوران ہوا تھا۔ اس کے متعلق یوٹیوب وغیرہ پر اپکو ڈاکومنٹری مل جائیں گی۔۔۔

How many stages do drugs go through before they hit the market?

When a chemical first shows an effect against a disease or a physiological problem, it takes an average of 10 / 15 years for that chemical to reach the market as a drug.


So what is happening with this chemical in such a long time? Or in other words what stages and what experiments a medicine goes through before it comes to the market.


So our story begins when a researcher discovers a chemical that works against a disease. He also tested it further in the laboratory, which showed encouraging results. However, we cannot call it "medicine" or "drug" at this time. Rather, it can be called a "lead compound". In order to improve it, we can make some changes in its chemical composition. We will then test our compound in living organisms.


  We will first test it in animals and then in humans. All these tests have two purposes. One is to see if the compound is safe to use and, if so, in what quantity. While the second objective is whether or not the compound has shown benefits outside the body, it does the same thing inside the body. All these tests are done in different stages, and we are going to look at these stages in order


1- Pre-clinical trials


Here we see our chemical injected into the animal's body. Obviously, the disease against which this chemical works, does not occur in animals. Therefore, the problem is created in animals by artificial methods. After which the function of this chemical is seen and it is also seen how much that chemical becomes toxic in animals. Various tests are done on animals and the effects of this chemical are observed by removing their organs.

If we get positive results in animals, we move from animals to humans. From the amount that the chemical has shown to have an effect in animals, we determine the amount given in humans. That is, by applying different formulas etc. to the amount of animals, we calculate the amount suitable for humans.

So now we're going to do experiments on humans called clinical trials, and these clinical trials have four phases.

Phase One:

In this phase we conduct experiments on healthy humans. That is, those people who do not have the disease for which the chemical is used. Because right now our aim is only to check the safety of this chemical in the human body, not the efficacy of this chemical against disease. We give that chemical to some normal healthy people and monitor them, do various tests on them to see if our chemical has any harmful side effects in the body.

Phase Two:

After successful experiments in healthy people, we conduct experiments in patients who have the disease for which the chemical is effective. In this phase we take a short number of patients. Most of them are from the same place or from the same hospital. And this is the stage when we first see the anti-disease activity of this chemical in the human body.

Phase Three:

If there are encouraging results in phase two, we move to phase three. In this phase we increase the number of patients. In this phase, experiments are conducted on hundreds of thousands of patients. which are from different areas and hospitals. Here we look at the drug's performance at a larger level as well as its potential side effects

After all these steps, if our chemical gives the desired results, we present our research and results to the government authority. And then if that government authority agrees with this research, then our medicine comes into the market.

Phase Four:

Even after coming into the market as a medicine, Camel is not left behind. Now it is seen that that medicine is not causing any side effect in the general public. Even if we take thousands of people in our experiments, when the drug is used by the general public, it will be a very large number, so it is possible that a very rare side effect will occur. . In general, this side effect is considered very rare, occurring in about 1 in every 20,000 people.

So such side effects are noticed only after the drug is on the market, and if a very dangerous side effect occurs then the drug is withdrawn from the market. One such drug was "Rofecoxib" used for pain etc.

Phase Zero:

This is not a necessary phase, but pharmaceutical companies do it before phase one, in which a small amount of camel is taken and made reactive, then it is observed in the human body. It detects where it is going in the body. Thus many side effects are seen. And accordingly further research is stopped there. Because all this research costs several million dollars.

With the help of special computer software, we can also draw conclusions about how a chemical works, a technique called "in silico".

So this is research before a drug comes to market. There is also a legal aspect to the whole work as well

1- Experiments conducted on animals do not have open freedom either. In developed countries, permission has to be obtained from the relevant authorities before conducting experiments on animals, and there are some rules for experiments.


2- Every country has a government agency to control medicines As Pakistan has Drug Regulatory Authority, and USA has FDA.


3- When the pre-clinical and clinical trials of a drug are completed, this authority allows the drug to be marketed in its respective country. In addition, approval is required before starting clinical trials.


4- FDA of America has a special place in the whole world. In most countries, FDA-approved drugs receive special "exemption" from their drug regulatory authority, meaning they are not subject to as rigorous testing.


5- It is not always the case that a new chemical will be part of our research. Sometimes an existing drug is modified to treat a new disease.


6- There are not many clinical trials in our country because most of the drugs are from international companies. However, there are many clinical trials in the United States and the United Kingdom, and many people participate in many clinical trials there. In return they get a few thousand dollars/pounds. But there is a risk involved as the drug is being tested for the first time. One such famous case happened during the trials of a cancer drug "Theralizumab". You will find documentaries related to this on YouTube etc.


respiration" اور "fermentation"


respiration" اور "fermentation"

بیالوجی کی بات چیت میں ایک عام غلطی "anerobic respiration" اور "fermentation" کو ایک ہی عمل سمجھنا یا دونوں الفاظ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرنا ہے۔ 


حالانکہ دونوں میں کافی واضح فرق ہے۔ 


پہلی بات fermentation ہو، anerobic respiration ہو، یا پھر aerobic respiration ہو، تینوں میں ایک عمل مشترکہ ہے، جو کہ "glycolysis" ہے، یعنی گلوکوز سے pyruvate/ pyruvic acid کا بننا۔ 


اس کے بعد aerobic respiration میں یہ pyruvate اگے جا کر Kreb's cycle میں داخل ہوتا ہے اور اسکے بعد electron transport chain کا عمل ہوتا ہے۔ جس کے آخر میں آکسیجن کا مالیکول بطور electron acceptor کام کرتا ہے، اور یہی وہ کام ہے جس کے لیے aerobic respiration میں آکسیجن استعمال ہوتا ہے۔ 

جبکہ anerobic respiration میں بھی یہ سارا عمل ہوتا ہے، یعنی krebs cycle بھی ہوتا ہے (یا پھر krebs cycle جیسا کوئی عمل مثلاً reductive TCA cycle) اور electron transport chain بھی لیکن یہاں آخر میں آکسیجن بطور electron acceptor نہیں ہوتا، بلکہ اس کی جگہ یہ کام کرنے کے لیے کوئی اور مالیکول ہوگا، جیسا کہ سلفیٹ، نائٹرائٹ، نائٹریٹ، ائرن اکسائڈ وغیرہ۔  یہ عمل ہمیں بیکٹیریا میں دیکھنے کو ملتا ہے، جنہیں ہم anerobic bacteria کہہ لیتے ہیں۔ اسکے علاؤہ کچھ eukaryotes بھی یہ عمل کرتے ہیں۔ البتہ اس عمل میں عموماً aerobic respiration سے کم توانائی بنتی ہے۔ بیکٹیریا چوں کے prokaryotes ہیں اس لیے انکے اس عمل میں eukaryotes کی نسبت کچھ تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ 


لیکن fermentation میں krebs cycle اور electron transport chain کا عمل سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ یہاں آکسیجن یا کوئی بھی اور electron acceptor نہیں ہوتا، اور glycolysis سے بننے والا pyruvate اگے جاکر ethanol یا lactic acid میں بدل جاتا ہے (دونوں میں سے کیا بنے گا، وہ fermentation کرنے والے جاندار/ سیل پر منحصر ہے۔) جیسا کہ yeast ایک فنجائی ہے، جو ethanol بنانے کے کام آتی ہے، اور آکسیجن کی کمی میں ہمارے جسم کے کچھ سیلز lactic acid پیدا کرتے ہیں، یہ fermentation کی مثالیں ہیں۔۔۔

A common mistake in biology discussions is to think of "anaerobic respiration" and "fermentation" as the same process or to use the two terms interchangeably.


However, there is a clear difference between the two.


First, be it fermentation, anaerobic respiration, or aerobic respiration, all three have one process in common, which is "glycolysis", that is, the formation of pyruvate/pyruvic acid from glucose.


After that, in aerobic respiration, this pyruvate enters the Kreb's cycle and then the process of electron transport chain takes place. At the end of which the oxygen molecule acts as an electron acceptor, and this is what oxygen is used for in aerobic respiration.


While in anaerobic respiration, this whole process also takes place, i.e. Krebs cycle also takes place (or a process similar to Krebs cycle, for example, reductive TCA cycle) and the electron transport chain, but in the end, oxygen is not used as an electron acceptor, but instead of it. It would be another molecule to do the job, such as sulfate, nitrite, nitrite, iron oxide, etc. We see this process in bacteria, which we call anaerobic bacteria. In addition, some eukaryotes also perform this process. However, this process usually produces less energy than aerobic respiration. Bacteria are prokaryotes, so their process may have some changes compared to eukaryotes.


But in fermentation, the process of Krebs cycle and electron transport chain does not happen from end to end. There is no oxygen or any other electron acceptor, and the pyruvate produced by glycolysis is converted to either ethanol or lactic acid (which depends on the organism/cell doing the fermentation) as in yeast. There is a fungus, which is used to make ethanol, and some cells in our body produce lactic acid in the absence of oxygen, these are examples of fermentation.


Thursday, 23 November 2023

(Routine Lab test

 

اپنی صحت کی جانچ کے لیے سالانہ کون کون سے ٹیسٹ کروانے چاہئیں؟ (Routine Lab test)

1۔ CBC. (کمپلیٹ بلڈ کاونٹ)۔ یہ ٹیسٹ بہت ہی اہم ہوتا ہے یہ خون میں موجود مختلف خلیات یعنی ریڈ بلڈ سیلز، وائٹ بلڈ سیلز اور وائٹ بلڈ سیلز کی تمام اقسام اور پلیٹ لیٹس کی تعداد اور خون میں موجود ہیموگلوبن کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر خون میں ہیموگلوبن کی کمی مطلب اینمیا کا شکار ہیں (جسے عرف عام میں خون کی کمی کہا جاتا ہے،ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر دوسری عورت اور چھوٹے بچوں کو خون کی کمی کا امکان ہوتا ہے ، خون کی کمی زیادہ تر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو ہوتی ہے۔)  یا جسم میں کوئی انفیکشنز چاہیے بیکٹیریئل ہو یا وائرل یا الرجک پروسیس چل رہا ہے تو اس ٹیسٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


2۔ LFTs (لیور فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ جگر کا ٹیسٹ ہے۔ جس میں جگر کے نارمل کام کرنے کی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے خون میں بلی ریوبن اور کچھ اینزائمز کو جانچا جاتا ہے۔ بلی ریوبن ایک مادہ ہے جو کہ ہمارے خون کے سرخ خلیات کی توڑ پھوڑ سے بنتا ہے اور جگر اس کو جسم سے صاف کرنے کے لیے دیگر کچھ مادوں کے ساتھ جوڑتا ہے اور پھر یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر جگر کے نارمل فنکشن میں کوئی خرابی ہو تو بلی ریوبن کی مقدار خون میں ایک مخصوص ویلیو سے بڑھ جاتی ہے۔


3۔ RFT's and Uric Acid (رینل فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ گردوں کی جانچ کا ٹیسٹ ہے۔ اس میں خون میں موجود یوریا اور کریٹینن کو جانچا جاتا ہےاور اگر انکی مقدار ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو تو یہ گردوں کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے, اور مزید اجکل  Uric acid کا مسلئہ بھی بہت عام ہے، جس کے زیادہ ہونے سے گھنٹیا، جوڑوں میں درد میں خصوصاً پائوں کے انگوٹھے میں اسکا مسلئہ زیادہ ہوتا ہے۔


4۔ Lipid profile Test. یہ جسم میں موجود مختلف طرح کے لپڈز کی جانچ کرتا ہے یعنی کولیسٹرول ، ہائی ڈینسٹی لائیپو پروٹینز اور لو ڈینسٹی لائیپو پروٹینز۔ جن افراد کی فیملی ہسٹری میں دل کے امراض ہوں ان کو (خاص طور پر مرد حضرات کو) یہ ٹیسٹ سال میں ایک بار ضرور کروانا چاہیے۔ لپڈز لیول میں اگر تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو تو آپ ابتدائی لیول پر اس کی جانچ کر کے اپنی خوراک میں تبدیلی اور ورزش کو روٹین کا حصہ بنا کر دل کے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مردوں میں دل کے امراض کا تناسب زیادہ ہے۔ لہذا سب مرد حضرات کو بیس سال کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے اور جن کے ماں باپ میں سے کسی کو دل کا مرض ہے تو وہ سالانہ یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔


5۔ R.BSL ( بلڈ شوگر لیول )۔ یہ ٹیسٹ خون میں موجود گلوکوز کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ کی فیملی ہسٹری میں ڈایا بٹیز (شوگر) کی بیماری ہے تو سالانہ اپنا یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں, 

۔RBSL کے ساتھ ساتھ Hba1c بھی ٹیسٹ کروا لینا چاہیے، خصوصاً جس کی فیملی میں کسی کو شوگر کا مسلئہ ہو، یا جس کو شوگر کی علامتیں یوں ، یہ ٹیسٹ 3 سے 4 مہینے کی ایوریج شوگر کا لیول بتاتا ہے۔ اور شوگر کی تشخیص کے لیے سب سے اچھا ٹیسٹ بھی یہی مانا جاتا ہے۔

6۔ Stool test . ترقی یافتہ ممالک میں ہر چھ ماہ بعد سکریننگ ٹیسٹ میں یہ بھی کیا جاتا ہے۔ کولون اور ریکٹم کے مختلف امراض خصوصا کینسر کو جلدی پکڑنے کے لیے یہ ٹیسٹ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ٹیسٹ میں سٹول سیمپل کی مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں خون ، پس یا کوئی اور ایبنارمل مادہ تو موجود نہیں ہے۔


7۔ Urine complete examinatiom۔ اس ٹیسٹ میں یورین کی مکمل مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں بیکٹریا ، خون ، پس یا کرسٹلز وغیرہ تو موجود نہیں۔۔یہ ٹیسٹ یورینری ٹریکٹ کی بیماریوں کی جانچ کے لیے ضروری ہے۔


8۔ Mantoux 

یہ ٹبی کا ٹیسٹ ہوتا جو کے بازو پر انجکشن  لگھایا جاتا 

جہاں پر انجکشن لگھتا وہاں اگر نشان پھیلتا جائے تو اندیشہ ہوتا کے کچھ اثرات یا باڈی کسی جراثیم سے متاثر ہے۔

 

9۔Vitamin D3 test

یہ بھی بلڈ سے پتہ چلتا کے جسم میں اسکی کمی تو نہیں آج کے دور میں 80 پرسنٹ سے زیادہ لوگوں کو وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، جس کی کمی کی وجہ سے ڈیپریشن سٹرس کی علامتیں آتی ہیں ،جیسے جسمانی کمزوری، سر درد، تھکاوٹ، پٹھوں میں درد کا ہونا ، ٹانگوں میں درد کا ہونا، ہڈیوں میں درد کا ہونا اور کوئی کام نہ کرنے کو دل کرنا وزن کا کم ہونا اور نیند کا مسلئہ ہونا وغیرہ وغیرہ 


10۔Thyroid blood test.

T3,T4,TSH

یہ ٹیسٹ خصوصاً ان لوگوں کو کروانا چائے ، جسکی فیملی میں کسی کو تھارائیڈ کا مسلئہ ہے، باقی تھارائیڈ کا مسلئہ عورتوں میں 10 گنا زیادہ ہوتا ہے۔


11۔B12 blood test

اچھی صحت کے لئے اس ٹیسٹ کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

بلڈ کے سرخ ذرات بننے کے لئے اس وٹامن کی مناسب ویلیو ہونی چاہئے، وٹامن بی بارہ کی کمی زیادہ تر ان لوگوں کو ہوتی ہے ،جو گوشت نہیں کھاتے ،یا جس کو کوئی دائمی پیٹ کا مسلئہ ہو،اور،اس کی کمی سے بھی  بہت کمزوری اور جسم سو کھنے لگ جاتا۔ پیرو میں جلن، جسم میں بے حسی، بے چینی، وغیرہ علامتیں شامل ہیں، 


۔12:H pylori stool antigen test 

یہ ٹیسٹ پاخانے سے کیا جاتا ہے، اگر اپ کے معده میں سوزش یا بدبضمی یا معده میں درد یا سوزش یا معده کا سخت پن اور بار بار قے آنا۔ یا جسم میں تہکاوٹ, وزن میں کمی یا ہلکا بخار ھو تو پھر یہ ٹیسٹ کروانا چائے، 

( باقی ایچ پائیلوری کا بلڈ ٹیسٹ صرف ایک بار کروایا جا سکتا ہے، بار بار ایچ پائیلوری بلڈ ٹیسٹ کروانا بے وقوفی ہے, کیونکہ یہ ٹیسٹ ایکٹیو انفیکشن کا نہیں بتاتا)


نوٹ:اس پوسٹ کا مقصد لوگوں کا آگاہ کرنا ہے کہ لیب ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں،بیماریوں کی تشخیص کےلئے، اگر آپکا ڈاکٹر کچھ لیب ٹیسٹ تجویز کرتا ہے تو پھر ضرور لیب ٹیسٹ کروانے چاہیے۔ شکل یا  نبض دیکھ کر ہر بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی، شکریہ


 باقی اس میں پہلے 7 ٹیسٹ آپ اپنی مرضی سے سال میں ایک یا دو بار کروا سکتے ہیں، باقی بہتر ہے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کر کے اس کے مطابق ٹیسٹ کروانے چاہیے ۔ پہلے 7 ٹیسٹ کی قیمت تقریباً 3 سے 5 ہزار تک ہو سکتی ہے ، کیونکہ ہر لیب کی قیمت مختلف ہوتی ہے۔

باقی آخری 5 لیب ٹیسٹ کی قیمت 5 سے 10 ہزار تک ہوتی ہے ، لہذا مہنگے ٹیسٹ ڈاکٹر کے مشورے سے کروانے چاہیے،

 اپنی صحتِ کا خیال رکھیں اور خوش رہیں۔ 

What tests should be done annually to check your health? (Routine Lab test)

1. CBC. (Complete Blood Count). This test is very important as it shows the number of different cells in the blood i.e. red blood cells, white blood cells and all types of white blood cells and the number of platelets and the amount of hemoglobin in the blood. If the lack of hemoglobin in the blood means suffering from anemia (commonly known as anemia, it is estimated that one in two women and young children in Pakistan are likely to be anemic. , children and the elderly.) Or if there are any infections in the body, whether bacterial or viral or an allergic process is going on, then this test can be assessed.


2. LFTs (Liver Function Tests). This is a liver test. In which reuben and certain enzymes are tested in the blood to check the ability of the liver to function normally. Cat Reuben is a substance that is formed from the breakdown of our red blood cells and the liver combines it with other substances to clear it from the body and then it is excreted from the body. If there is any disturbance in the normal function of the liver, the amount of cat Reuben in the blood increases above a certain value.


3. RFT's and Uric Acid (Renal Function Test). This is a kidney test. It tests the urea and creatinine in the blood and if their amount is more than a certain limit, it indicates kidney failure, and more often, the problem of uric acid is also very common, the excess of which causes ringing. It is more common in joint pain, especially in the big toe.


4. Lipid profile test. It tests the different types of lipids present in the body ie cholesterol, high density lipoproteins and low density lipoproteins. People with a family history of heart disease (especially men) should get this test done once a year. If there is a slight disturbance in the lipids level, you can check it at the initial level by changing your diet and making exercise a part of your routine to protect yourself from dangerous heart diseases. The proportion of heart diseases is higher in men. Therefore, all men must undergo this test after the age of twenty years and those whose parents have heart disease should undergo this test annually.


5. R.BSL (Blood Sugar Level). This test measures the amount of glucose in the blood. If you have a family history of diabetes, then you must get this test done annually.

Along with RBSL, Hba1c should also be tested, especially if someone has a family history of diabetes, or who has symptoms of diabetes. And this is also considered to be the best test for diagnosing diabetes.

6. Stool test. In developed countries it is also done in screening test every six months. This test is of fundamental importance for the early detection of various diseases of the colon and rectum, especially cancer. In this test, a stool sample is examined microscopically for blood, pus, or any other abnormal material.


7. Urine complete examination. In this test, a complete microscopic examination of the urine is done to ensure that it does not contain bacteria, blood, pus or crystals, etc. This test is essential for the diagnosis of urinary tract diseases.


8. Mantoux

This would have been a test of tubby, which would have been injected into the arm

If the mark spreads where the injection was done, there is a fear of some effects or the body is infected with a germ.

 

9. Vitamin D3 test

It also shows from the blood that it is not lacking in the body. Today, more than 80 percent of people are suffering from vitamin D deficiency, due to the lack of which symptoms of depression and stress occur, such as physical weakness, headache. Fatigue, muscle aches, leg aches, bone aches and inactivity, weight loss, sleep problems, etc.


10. Thyroid blood test.

T3, T4, TSH

This test is especially recommended for those people who have a family history of thyroid problems, the remaining thyroid problems are 10 times more common in women.


11. B12 blood test

Having this test is also very important for good health.

In order to form red blood cells, this vitamin must have an adequate value. Vitamin B12 deficiency is most common in people who do not eat meat, or who have chronic stomach problems. Very weak and the body would fall asleep. Symptoms include burning sensation, body numbness, restlessness, etc.


12: H pylori stool antigen test

This test is done through stool, if you have stomach inflammation or indigestion or stomach pain or inflammation or stomach stiffness and frequent vomiting. Or if there is a collapse in the body, weight loss or mild fever, then this test should be done.

(Remaining H pylori blood test can be done only once, repeated H pylori blood test is foolish, because this test does not indicate active infection)


Note: The purpose of this post is to inform people that lab tests are necessary for diagnosis of diseases, if your doctor prescribes some lab tests, then you must do lab tests. Not every disease can be diagnosed by looking at the shape or pulse, thank you


  You can get the first 7 tests done once or twice a year if you want, the rest is better after consulting a doctor and get the tests done accordingly. The cost of the first 7 tests can be around 3 to 5 thousand, as each lab's price is different.

Remaining last 5 lab

A

A

 00000 تو یہ ہے "وارفرین" جسے "خون پتلہ" کرنے والی دوائی کہا جاتا ہے۔ لیکن خون کو پتلہ کیوں کرنا ہے ؟ اصل میں مختلف مسائ...