Friday, 24 November 2023

Flagyl کیا ہے؟

 














Flagyl کیا ہے؟







Flagyl 400 Tablet ایک اینٹی بائیوٹک ہے جو آپ کے جسم کی بیکٹیریا اور پرجیویوں کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت میں مدد کرتی ہے۔ یہ جگر، معدہ، آنتوں، اندام نہانی، دماغ، دل، پھیپھڑوں، ہڈیوں اور جلد کے انفیکشن کے علاج میں استعمال ہوتا ہے

یہ ہم پاکستانیوں کی بڑی پسندیدہ گولی "فلیجل" (flygel) یعنی "metronidazole" ہے۔ کسی میڈیکل سٹور والے یا کسی دور دراز کے گاؤں کے ڈسپنسر سے بھی پیٹ درد کی دوا لیں گے تو اکثر فلیجل اور ساتھ میں کوئی پین کلر دے دے گا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ یہ بہت ساری انفیکشنز کے خلاف کارآمد بھی ہے۔

تو بات شروع ہوتی ہے بیکٹیریا سے۔ جس کی دو اقسام ہوتی ہیں ایک وہ جو اپنی توانائی بنانے کے لیے آکسیجن کو استعمال کرتے ہیں، جنہیں ہم aerobic بیکٹیریا کہتے اور دوسرے وہ جو آکسیجن کے بغیر توانائی بناتے ہیں جنہیں ہم anerobic بیکٹیریا کہتے ہیں۔ دونوں بیکٹیریا کے خلیے میں طرح طرح کے کیمکل ریکشنز ہو رہے ہوتے ہیں جن سے کہ وہ اپنے لیے توانائی بناتے ہیں، لیکن دونوں کا توانائی بنانے کا طریقہ الگ ہوتا ہے۔

AA

بیکٹیریا کے علاؤہ کچھ یک خلوی جاندار (کچھ protists) اور بھی ایسے ہوتے ہیں جو anerobic ہوتے ہیں۔

anerobic اس فلیجل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ان 

 جانداروں میں ہی ایکٹو ہوتی ہے، جبکہ aerobic جانداروں اور خلیوں کو نہیں مارتی۔ تو فلیجل یہ سب کیسے کرتی ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہم کوئی دو تین صفحات سے زیادہ پر ریکشنز لکھ سکتے ہیں، اور ان ریکشنز کو دیکھ کر پھر یہ دیکھیں کہ ایک معمولی سی قیمت پر ملنے والی چھوٹی سی گولی اتنا سب کرتی ہے تو کچھ لوگوں کو حیرت ہوگی، اور مجھے سائنس کی اس شاخ سے مزید محبت ہوگی۔

مختصر بیان کیا جائے تو پہلے فلیجل اپنی ایکٹو حالت میں نہیں ہوتی لیکن جب ہم اسے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں (گولی اور انجیکشن کے ذریعے) تو یہ انفیکشن والی جگہ پر پہنچ جاتی ہے، اور وہاں دونوں اقسام (aerobic اور anerobic) جانداروں کے خلیے کے اندر داخل ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے انسانی خلیوں میں بھی داخل ہو جاتی ہے (وہ بھی aerobic ہوتے ہیں)

 لیکن انروبک جانداروں کے خلیوں میں کچھ ایسے ریکشن ہوتے ہیں 

جن کی وجہ سے فلیجل سے کچھ خطرناک کیمکل بنتے ہیں۔ یہ کیمکلز اس ان اروبک جراثیم کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اسے مار دیتے ہیں۔ 


لیکن ایروبک خلیوں میں یہ ریکشنز نہیں ہوتے اور ان خلیوں کے پاس فلیجل کے بنائے ہوئے خطرناک کیمکل سے بچنے کا سسٹم بھی ہوتا ہے۔ 

ویسے تو  anerobic اور aerobic دونوں اقسام کے بیکٹریا اور جراثیم انفیکشن کی وجہ بن سکتے ہیں، لیکن سینے سے نچلے حصوں پر زیادہ تر anerobic بیکٹیریا اور جراثیم ہی انفیکشن کی وجہ بنتے ہیں۔ جیسے نظام انہضام کے نچلے حصے کی انفیکشنز، تولیدی نظام کی اینفیکشنز، گھٹنے کے جوڑوں کی انفیکشنز وغیرہ۔ اس کے علاؤہ منہ اور دانتوں میں ہونے والی مختلف انفیکشنز میں بھی۔ اور بہت کم کیسز میں دماغ کی اینفیکشنز کے لیے بھی۔

فلیجل کی aerobic اور anerobic کی تمیز سے زیادہ اس کا anerobic بیکٹیریا کو مارنے کا طریقہ دلچسپ ہے۔ اس طریقے کی پیچیدگی کی وجہ سے فلیجل عرصے کے بعد بھی کافی حد تک اپنے مطلوبہ نتائج دکھاتی ہے۔ 

لیکن جس تیزی سے یہ استعمال ہو رہی ہے، لگتا یہی ہے کہ کچھ دیر میں اس کا نشانہ بننے والے بیکٹیریا اس کے خلاف بھی مدافعت پیدا کر لیں گے، اور رپورٹس کے مطابق یہ کام شروع ہو بھی چکا ہے، یعنی ہم ایک خوبصورت طریقہ کار والی اس دوائی کو بھی جلد ہی ناکام ہوتا دیکھنے والے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ہمارا ایسے ہی اینٹی بائیوٹکس کو بغیر احتیاط اور ضرورت کے استعمال کرنا ہے، لہذا اس کام سے بچیں۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment

 00000 تو یہ ہے "وارفرین" جسے "خون پتلہ" کرنے والی دوائی کہا جاتا ہے۔ لیکن خون کو پتلہ کیوں کرنا ہے ؟ اصل میں مختلف مسائ...